راستی کا سفر
۔۔۔۔۔۔۔۔
سچ ہے زورآوروں کے پہرے میں
سامنے کس طرح کی بستی ہے
سرنگوں شر کے سامنے دیکھی
زندگی خیر کو ترستی ہے
جرم سے پیشتر سزا کا نفاذ
ہے یہ پہچان کس قبیلے کی
خود پرستی کے اس خرابے میں
جرم ہے آئنہ دکھانا بھی
جاں کریں تجھ پہ ہم فدا لیکن
تو اسیر ایسے موسموں میں ہوا
جب ہے انصاف خود کٹہرے میں
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم
اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی... -
فہمیدہ ریاض ۔۔۔ اب سو جاؤ
اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے... -
حفیظ جالندھری ۔۔۔ ابھی تو میں جوان ہوں
ہَوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنمِ ہزار ہے بہار پر بہار...
